Fix Before Trash

Fix Before Trash Stop throwing. Start fixing. Real repairs. Real savings. Every day. 💪

19/01/2026

Karachi Gul Plaza 😭💔 کراچی گل پلازہ

23/08/2025

Swat and bunir flood disasters in August 2025

22/08/2025

Swat flood disasters 2025

22/08/2025

Bunir flood || Swat and bunir flood

16/08/2025

‏خیبرپختونخوا میں تیز بارشوں اور سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 311 تک پہنچ گئی
‏مرنے والوں میں 186 افراد کا تعلق بونیر سے ہے
‏پی ڈی ایم اے

سوات میں طالب علم کے قتل میں ملوث اھم ملزمان  خوازہ خیلہ مدرسہ کے مھتمم قاری عمر اور ان کے بیٹے احسان کو گرفتار کرلیا گی...
28/07/2025

سوات میں طالب علم کے قتل میں ملوث اھم ملزمان خوازہ خیلہ مدرسہ کے مھتمم قاری عمر اور ان کے بیٹے احسان کو گرفتار کرلیا گیا۔ایس پی اپر سوات شوکت علی خان کے مطابق دونوں ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں جن کو تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردئے گئے ہیں ۔تشدد سے جاں بحق ہونے والے بچے کا واقعہ پیش آنے کے بعد قاری عمر بیٹے سمیت روپوش ہوگئے تھے ایس پی اپر سوات شوکت علی کی نگرانی میں تشکیل پولیس ٹیم نے باپ بیٹے کو گرفتار کرلئے ہیں

#سوات #مدرسہ

اگر ایمل ولی خان کی خواہش ہو کہ تمام پختون سیاسی جماعتیں اتفاق کے ساتھ 26 تاریخ کو باچا خان مرکز میں بلائے گئے جرگے میں ...
24/07/2025

اگر ایمل ولی خان کی خواہش ہو کہ تمام پختون سیاسی جماعتیں اتفاق کے ساتھ 26 تاریخ کو باچا خان مرکز میں بلائے گئے جرگے میں متفقہ شرکت کریں تو ان کو اپنے رویے سے یہ ثابت کرنا ہوگا۔ کسی بھی متوقع مہمان کے بارے میں قبل از جرگہ متنازعہ بیان دینے سے یہی تاثر جاتا ہے، کہ وہ جرگے میں مذکوره جماعت کی شرکت نہیں چاہتا.

‏*جاؤ واپس جاکر اپنے ڈاکومنٹس گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر پھر آؤ"* **روزانہ کے معمول میں یہ جملہ آپ نے بھی سنا ہوگ...
24/07/2025

‏*جاؤ واپس جاکر اپنے ڈاکومنٹس گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کروا کر پھر آؤ"*

**روزانہ کے معمول میں یہ جملہ آپ نے بھی سنا ہوگا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق پاکستان میں کیوں ہم پہ فرض کی گئی ہے؟؟؟*
*کیا آپ لوگوں کے ڈاکومنٹس چیک کرنے کا صرف یہ واحد معیار ہے کہ 17 سکیل کا بندہ sign کرلے جس کے پاس کوئی مشین نہیں اس کی تصدیق کیلئے** ؟؟؟؟*
*مزے کی بات یہ ہے کہ وہ امتحانی بورڈ یا دفتر جس نے آپکو ڈگری دی ہوتی ہے اسی ڈگری کی فوٹو کاپی انکے پاس لے کر جاٸیں تو آفس والے کہینگے گریڈ 17 کے آفیسر سے تصدیق کرکے آؤ۔۔۔نادرا والے خود کمپیوٹر میں سارا ریکارڈ چیک کرنے کے بعد کہتے ہیں جاؤ یہ فارم 17 گریڈ کے آفیسر سے تصدیق کرکے لاؤ۔۔*
*حالانکہ صرف تصدیق شدہ فوٹوسٹیٹ پر جاب نہیں ملتی بلکہ انٹرویو کے وقت اصل اسناد دکھانے پڑتے ہیں اور جب تک متعلقہ بورڈ یا یونیورسٹی سے ڈگری کی تصدیق نہیں ہوتی اس وقت تک پہلی تنخواہ جاری نہیں ہوتی۔۔۔*
*ہمارے گاؤں کے غریب کا بچہ دستخط کے لیۓ اپنے والد کو ساتھ لیکر گریڈ 17 کے آفیسر سے دستخط کے بعد زندگی بھر اسکا ممنوں رہتا ہے اور گریڈ17 کا آفیسر بڑے سیریس انداز میں ایک لمبا چوڑا دستخط کرکے اندر ہی اندر اس بیوقوف سسٹم پہ ہنس رہا ہوتا ہے۔۔*
*خدارا اپنا سسٹم اپڈیٹ کرو، غلامی کی پرانی روایات کو چھوڑ کر لوگوں کے لیۓ آسانیاں پیدا کرو۔*
*آٶ اس مہم میں شامل ہوکر اپنے اپنے حصہ کی شمع جلاٸیں۔۔*
Copied

مولانا خان زیب سے مشہور، دولت مند اور باآثر علماء یہاں موجود ہیں انہیں کبھی کسی نے نقصان پہنچانے کی کوشش تک نہیں کی لیکن...
23/07/2025

مولانا خان زیب سے مشہور، دولت مند اور باآثر علماء یہاں موجود ہیں انہیں کبھی کسی نے نقصان پہنچانے کی کوشش تک نہیں کی لیکن مولانا حسن جان، مفتی منیر شاکر اور مولانا خان زیب جیسے علماء شہید کئے جاتے ہیں کیوں ؟.
کیونکہ باقی علماء صرف علماء ہیں جن کی دوڑ صرف مسجد تک ہے۔ ان کی درس و تدریس میں صرف مذہبی احکام، انبیاء، صحابہ کرام کے واقعات اور جنت اور دوزخ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ اس سماج کا حصہ ہے لیکن سماج کے لئے ان کی خدمات صفر ہے الٹا ان کی وجہ سے پورا سماج جمود کا شکار ہے۔
اس کے برعکس مولانا خان زیب جیسے لوگ صرف مذہبی عالم نہیں سیاسی، قومی اور علاقائی رہنماء بھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف مذہب کی خدمت کرتے ہیں بلکہ سماج کو درہیش مسائل پر بھی بحث کرتے ہیں، انہیں حل کرنے کے لئے کوششیں کرتے ہیں۔
یہ لوگ اس مٹی کے ہوتے ہیں ان کی خمیر یہاں کی ہوتی ہے اس لئے ان کا جینا مرنا اپنی قوم و وطن کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے یہ لوگ آواز بلند کرتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں اور ہمارے ہاں دستور ہے کہ یہاں سوال اٹھانے والے خود سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
مولانا خان زیب بھی اس لئے مارا گیا کہ وہ سوال اٹھاتا تھا۔ دہائیوں سے جاری اس بدامنی کے خلاف، وسائل پر آئین کے مطابق مقامی لوگوں کے حقوق، آئین کی صحیح معنوں میں عمل داری اور ریاست اور قانون کے نام پر چھوٹی کمزور اقوام کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا تھا۔ ان کا قصور بس اتنا تھا کہ وہ اس بے شعور قوم میں شعور پھیلانے کی کوشش کر رہا تھا۔
دہائیوں سے پرائی جنگوں میں پھنسائے گئے لوگوں کو امن کا درس دے رہا تھا۔ انہیں سمجھا رہا تھا کہ جنگوں کا وقت گزر گیا اب ہمیں امن چاہیے۔ ہمارے پاس قدرتی حسن و وسائل سے مالامال وطن اور راستوں کا ایک قدیم نیٹ ورک ہے۔ ہم ہندوستان، افغانستان، چین اور سینٹرل ایشیا کو آپس میں ملاتے ہیں۔ اگر امن ہوگا تو ان راستوں پر دہشت گردی نہیں تجارت ہوگی۔ تجارت ہوگی تو دو چار روپے آئیں گے۔ دولت اپنے ساتھ خوشحالی، ترقی بھی لاتی ہیں۔ امن ہوگا تو ہم ترقی کر لیں گے ہمیں بھی وہ تمام سہولیات دستیاب ہوگی جنہیں پانے کے لیے ہم موت سے گزر کر یورپ وغیرہ جاتے ہیں۔
اور یہ سب موت کے سوداگروں کو منظور نہیں تھا۔ ہمارے گھر وطن میں لڑی جانی والی ان جنگوں سے ان لوگوں کے گھر چلتے ہیں۔ امن ہوگا تو یہ لوگ لوٹ مار کیسے کریں گے، لوٹ مار نہیں کریں گے تو طاقت کہاں سے آئی گی، طاقت نہیں ہوگی تو کمزور اقوام کو کیسے دبائیں گے، کیسے ان کا استحصال ہوگا ؟۔ جبر ظلم اور لوٹ مار کے لئے جنگیں ضروری ہے اس لئے جو بھی امن کی بات کرتا ہے۔ وسائل پر اختیار اور آئین کی عمل داری کی بات کرتا ہے اسے مرنے ہوگا۔
لیکن یہ بے وقوف لوگ نہیں جانتے آپ امن، اختیار اور آئین کی بات کرنے والوں کو تو مار سکتے ہیں لیکن اس سوچ کو کیسے ماریں گے ؟۔ ایک مولانا کے شہادت سے آپ اس سوچ اس فکر کو نہیں مار سکتے۔ ہم اپنے بچوں، بڑوں کو اپنے وسائل کے بارے میں بتائیں گے۔ انہیں بتائیں گے کہ امن کیوں ضروری ہے۔ ہم گھر گاؤں سے لے کر جنگل پہاڑوں تک امن، محبت اور اپنے وسائل پر حق کا پیغام پہنچائیں گے۔

وقت بدل گیا ہے۔ جن محفلوں میں کبھی جوان کشمیر، افغانستان میں لڑنے کی باتیں کرت تھے، شہادت، حور اور جنت کی باتیں ہوتی تھی اب وہاں امن کی باتیں ہوتی ہیں۔ اب وہاں اپنی دھرتی کے مسائل و وسائل زیر بحث ہوتے ہیں۔ آپ ہمیں جان سے مار تو سکتے ہیں لیکن ہماری امن کے لئے تڑپ کو نہیں مار سکتے، اپنے وسائل کے تحفظ کے جذبے کو نہیں مار سکتے۔ ایک مولانا کے شہادت سے ہمارا مشن ختم نہیں ہوا ہم مرتے دم تک امن، اپنے وسائل پر اختیار اور آئین کی صحیح معنوں میں عمل داری کے لئے کوششیں کرتے رہیں گے۔ ہمارے بعد ہمارے بچے کوششیں کریں گے ان کے بعد ان کے بچے جب تک ہمیں اپنی منزل امن، وسائل پر اختیار نہیں ملتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔۔۔

گمنام کوہستانی
#مولاناخانزیب #امن #محبت #وطن #وسائل #اختیار

22/07/2025

سوات خوازہ خیلہ چالیار مدرسہ واقعہ

سوات مدرسے میں دل خراش اور افسوس ناک واقعے کے بعد مدرسے کے طالب علم جو کہ اپر دیر سے تعلق رکھتے ہیں نے سب سچ اگل دیا ۔

سوات مولانا قاری محب اللہ صاحب اور مولانا قاری محمد طاھر صاحب وفاق المدارس العربیہ کے اراکین مجلس عاملہ اور ڈویژنل ناظم کا مقتول طالب علم کے ورثاء اور اس مدرسہ کا دورہ

#سوات #مدرسہ #واقع #طالب #ظلم

Adresse

Democratic Republic Of The

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Fix Before Trash publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager